بنگلورو،25؍اگست(ایس او نیوز) کووڈ۔ 19کی وجہ سے گزشتہ دیڑھ سال سے آن لائن کے ذریعہ تعلیم حاصل کر تے ہوئے مایوس ہو چکے طلبہ کے چہروں میں اسکولوں کو لوٹنے کی خوشی کی لہر دکھا ئی دے رہی ہے۔بروہت بنگلور مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی) کے تمام ہائی اسکولس اور پری یو نیورسٹی کالجوں میں 50فیصد سے زائد طلبہ نے حاضری دی ہے۔ بی بی ایم پی کے33ہائی اسکولس اور16پری یو نیورسٹی کالجوں میں طلبہ کی حاضری54.31فیصد رہی ہے۔بی بی ایم پی ہائی اسکولوں او کالجوں میں طلبہ کے خیر مقدم کر تے ہو ئے تعلیمی اداروں کے باہر پلروں کو ناریل کی پتیوں سے سبز کیا گیا تھا،اساتذہ نے اسکولوں کے صحن میں رنگولی ڈال رکھی تھی،ہر ایک طالب علم کو گلاب کا پھول پیش کر تے ہو ئے ان کا خیر مقدم کیا گیا۔طلبہ اپنے والدین کے ہمراہ اسکول پہنچے تھے،ہر ایک طالب علم کا تھرمل اسکریننگ ٹسٹ،سیا نیٹائز اور سماجی فاصلہ کے تحت کلاس روم میں داخل کیا گیا۔ہر ایک ڈسک پر صرف دو ہی طلبہ کو بیٹھنے کا مو قع دیا گیا ہے،طلبہ کے ساتھ آئے والدین کو اسکولوں میں ہی بیٹھنے کا موقع دیا گیا تھا،طلبہ کو ایک دوسرے کا کھانانہ دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔آسٹن ٹاؤن،ہیروہلی، سری رام پورہ،کاکس ٹاؤن،بیرسندرا، بنپا پارک،شانتی نگر سمیت33ہائی اسکولس میں نویں تا دسویں جماعت میں 4,739طلبہ نے داخلہ لیا تھا جس میں 2,574(54.31فیصد) طلبہ نے حاضری دی،اسی طرح پری یو نیورسٹی کالجوں میں 1,350طلبہ نے داخلہ لیا ہے جن میں 812طلبہ نے حاضری دی ہے۔بی بی ایم پی کلیو لینڈ ٹاؤن کی زنانہ پی یو کالج کے پرنسپل بالپا نے بتا یا کہ ہفتہ کے دن ہی کالج کو سیناٹائز کر نے کے علاوہ تما م کمروں کی صفائی کی گئی تھی۔بی بی ایم پی شعبہ تعلیم کے اسسٹنٹ کمشنر لو کیش نے بتا یا کہ طلبہ کے خیر مقدم کے لپے الگ الگ قطاریں بنائے گئے تھے،طلبہ کو دھیرے دھیرے قطاروں کے ذریعہ کلاس رومس میں داخل کیا گیا،تمام طلبہ کووڈ ضوابط پر عمل کر تے ہو ئے ماسک پہنے ہو ئے تھا اور سماجی دوری اختیار کر رکھی تھی۔ہیرو ہلی میں واقع بی بی ایم پی ہائی اسکول کے پرنسپل ناگراج نے طلبہ کو کلاس روم میں داخل ہو نے سے قبل کووڈ ضوابط پر عمل کر نے کی ہدایت دی۔لو کیش نے بتا یا کہ بی ی ایم پی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر نے والے طلبہ کی اکثریت کمزور طبقات سے ہوا کرتی ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ شروعات میں صرف 50فیصد طلبہ نے کلاسوں میں حاضر ی دی ہے،چند طلبہ اور ان کے والدین میں ابھی بھی کووڈ کا خوف دکھائی دے رہا ہے اس خوف کو دور کرنے کے لئے بیداری پیدا کر نے کی ضرورت ہے۔